این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۹

    شمالی امریکہ میں سالانہ منعقد ہونے والا این ای ڈی کنوینشن اس سال جنوبی کیلی فورنیا میں وقوع پذیر ہوگا۔ http://www.nedaasc.org/Convention2009.aspx پچھلی دفعہ کی طرح اس بار بھی کوشش فائونڈیشن این ای ڈی کنوینشن کے انعقاد میں مالی تعاون کر رہی ہے۔ اپریل کی گیارہ تاریخ کو جنوبی کیلی فورنیا سے آنے والے ایک وفد نے شمالی کیلی فورنیا میں مقیم این ای ڈی کے چند سابق طلبا سے ملاقات کی۔ یہ تصویر اسی ملاقات کے موقع پہ لی گئی تھی۔ تصویر میں اگلی صف میں دائیں سے احمد علی، ڈاکٹر فرحت صدیقی، اور اصغر ابوبکر ، اور پچھلی صف میں کھڑے ہوئے، دائیں سے سہیل اکبر، ریاض حق، اوستور رضا، اور منصور خان نظر آرہے ہیں۔ پچھلے سال کے کنوینشن پہ شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ درج ذیل ہے۔ وادی سلیکان میں این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۷ کا کامیاب انعقاد کس قدر آسان ہوتا ہے کسی شخص پہ اعتماد کرنا اگر آپ کے اور اس شخص کے درمیان ایک رشتہ ہو۔ اور اگر یہ رشتہ کسی تعلیمی ادارے سے وابستگی کی صورت میں ہو تو ایسے شخص سے مل کر ایک بہت مختلف خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ آپ نے جس علمی درس گاہ سے پڑھا ہے وہاں کے پرانے طلبہ۔ مختلف سالوں میں وہاں سے گزرنے والے لوگ۔ کہ جن دیواروں کا سہارا آپ نے کبھی لیا تھا یہ بھی ان کے سہارے کبھی بیٹھے تھے۔ کہ سخت دھوپ میں انہوں نے بھی انہیں درختوں کے نیچے پناہ لی تھی جن کے سائے سے آپ مستفید ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آپ کے اپنے ہیں۔ آپ ان پہ بھرپور اعتماد کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے حقیقی بہنوں بھائیوں سے بس ایک درجہ ہی پرے ہیں کہ ان کے اور آپ کے درمیان بھی ایک شفیق ماں ہے، اپ کی مادر علمی۔ ستمبر ۸ کے روز منعقد ہونے والے این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۷ کے بیشتر شرکا باہمی اعتماد اور سرشاری کے ایسے ہی ایک رشتے میں بندھے تھے۔ پورے دن پہ محیط اس کنوینشن کی دن کی کاروائیاں ٹیک مارٹ سینٹا کلارا میں ہوئیں جب کہ بعد مغرب کاروائی کرائون پلازا ہوٹل سان ہوزے میں ہوئی۔ دن کے اجلاس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد شریک ہوئے جب کہ شام کی محفل میں شرکا کی تعداد چارسو کے لگ بھگ تھی۔ شمالی امریکہ میں جامعہ این ای ڈی کے پرانے طلبہ کو سال میں ایک دفعہ کنوینشن کی صورت میں جمع کرنے کا سلسلہ دو سال پہلے شروع ہوا۔ اس قابل تحسین روایت کے بانی معین احمد صاحب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ۲۰۰۵ کا کنوینشن ہیوسٹن میں منعقد ہوا جب کہ ۲۰۰۶ کا نیوجرسی میں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پہ ان دونوں اجلاسوں کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔ وادی سلیکان میں منعقد ہونے والے تیسرے سالانہ این ای ڈی کنوینشن کی تیاریاں اس سال کے آغاز سے ہی شروع ہو گئیں تھیں۔ این ای ڈی المنائی ایسوسی ایشن آف سلیکان ویلی نام کی ایک تنظیم رجسٹر کی گئی اور ریاض حق، اصغر ابوبکر، صفوان شاہ، زوئیب رنگ والا، فرید درانی، صباحت اشرف، ادریس کوٹھاری، عمران قریشی، اور دوسرے افراد پہ مشتمل ایک اسٹئیرنگ کمیٹی ہر ہفتے ملنے لگی اور انتظامات کی تفصیلات طے کرنے لگی۔ ستمبر ۸ کے روز مہینوں کی یہ محنت رنگ لائی اور ایک کامیاب کنوینشن منعقد ہوا۔ کنوینشن کا آغاز ریاض حق صاحب کے تعارفی خطاب سے ہوا جس میں انہوں نے کنوینشن کے بارے میں مختصرا بیان کرنے کے ساتھ پروگرام کے معاونین اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کیا۔ کنوینشن کے دن کے اجلاس کا صدارتی خطبہ تنویر عالم ملک نے دیا جو تنویر عالم محمدی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جامعہ این ای ڈی کو ایک ایسی بوڑھی ماں سے تشبیہ جو مستقل اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دے رہی ہے اور یہ بچے پلٹ کر اپنی بوڑھی ماں کو پوچھتے ہی نہیں۔ سوال یہ تھا کہ جامعہ این ای ڈی کے ان بچوں کو اپنی ماں کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ کیا ان سابقہ طلبہ کو این ای ڈی کو رقومات کا تحفہ دے کر احسان چکانے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس سوال کا جواب شام کے اجلاس میں ہود بھائی کی تقریر میں ملا، مگر ہم اس طرف بعد میں آئیں گے۔ کنوینشن کا پہلا مذاکرہ ایک پینل کی صورت میں تھا جس کا عنوان “این ای ڈی سے نیسڈیک” تھا۔ اس مذاکرہ کے شرکا ایسے نامور لوگ تھے جنہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے اس کاروبار کو عروج بخشا اور دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ پینل کے شرکا میں راغب حسین، سی ٹی او، کیویم نیٹ ورکس؛ راشاد علی، سی ای او، فائی ویو؛ عمار حنفی، جنرل پارٹنر، الائے وینچرز؛ ادریس کوٹھاری، بانی، ورٹیکل سسٹمز؛ ریحان جلیل، سی ای او، وائی کورس؛ اور امیر السلام، سی ای او، جرسی پری کاسٹ شامل تھے۔ شرکا نے سامعین کو کاروبار شروع کرنے سے متعلق اپنے تجربات پیش کیے۔ “این ای ڈی سے نیسڈیک” پینل کے اختتام پہ کھانے کا وقفہ ہوا جس کے بعد کنوینشن کی کاروائی پھر شروع ہوئی۔ “این ای ڈی: حکایت اور تاریخی سرمایہ” نامی پینل کی نظامت راشد علی بیگ نے کی۔ موصوف ۱۹۸۰ میں این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے صدر تھے۔ پینل میں شریف احمد، ایگزیکیوٹو بورڈ ممبر، این ای ڈی المنائی آف کینیڈا؛ ابوالسلام، سی ای او، اے آئی انجینئیرنگ؛ علی احمد مینائی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف سنسناٹی؛ ندیم حسین، این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے پرانے صدر؛ اکبر یونس انصاری، این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے پرانے صدر؛ اور معین احمد، بانی، این ای ڈی المنائی ایسوسی ایشن آف امریکہ، شامل تھے۔ کیونکہ پینل میں شامل کئی شرکا ۸۰ کی دہائی میں جامعہ این ای ڈی کے طلبہ رہے تھے اس لیے گفتگو اسی دور کے سیاسی حالات، پاکستانی جامعات میں تشدد کے واقعات، طلبہ تنظیموں کے درمیان حربی جھڑپیں، وغیرہ کے بارے میں رہی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان سے خفیہ طور پہ اسلحہ افغانستان میں روسیوں کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔ اسلحے کی اس پائپ لائن میں کئی سوراخ تھے اور ان سوراخوں سے رسنے والے اسلحے کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر فروغ پایا۔ اس طالب علم کو وہ دن یاد ہے جب جمعیت طلبہ اسلام کے پلیٹ فارم سے کئی سالوں کے بعد الطاف شکور اور مسعود محمود پی ایس ایف کے امیدواروں کو ہرا کر کامیاب ہوئے اور دوسری طرف سے غم و غصے کے اظہار کے لیے زبردست فائرنگ کی گئی۔ کنوینشن کی دن کی کاروائی کا آخری پینل “انجینئیرنگ سے پرے” کے موضوع پہ تھا۔ پینل میں ایسے لوگ شریک تھے جنہوں نے اپنی انجیئیرنگ تعلیم سے الگ ہٹ کر کوئی کام کیا تھا۔ شرکا میں صباحت اشرف، مصنف، بلاگر، سماجی کارکن؛ عارف منصوری، مالک، ہفت روزہ پاکستان لنک؛ عارف غفور، سیاسی اور سماجی کارکن؛ نبیہا محیدی، سابقہ صدر، انٹرنیشنل آرگینائزیشن آف پاکستانی وومن انجینئیرز؛ راشد یوسف، سی پی اے؛ اور ندیم مغل، آئی ٹی مشیر، شامل تھے۔ اس پینل کے اختتام کے ساتھ ہی کنوینشن کی دن کی کاروائی ختم ہوئی۔ چند گھنٹے کے وقفے کے بعد شرکا کرائون پلازا ہوٹل میں جمع ہوئے۔ کنوینشن ۲۰۰۷ نے این ای ڈی کے سابقہ طلبہ کو اپنے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا۔ کنوینشن میں شامل قدیم ترین طالب علم ڈاکٹر فرحت علی صدیقی تھے جنہوں نے ۱۹۶۸ میں این ای ڈی سے تعلیم مکمل کی تھی جب کہ جدید ترین فارغ التحصیل طالبہ قدسیہ مینائی تھیں جنہوں نے ۲۰۰۲ میں سند حاصل کی۔ کنوینشن میں ایک عجیب گہماگہمی تھی، توانائی تھی۔ لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اپنے پرانے ہم جماعتوں سے غیر موجود ساتھیوں کے متعلق استفسار کر رہے تھے۔ شام کے اجلاس میں سب سے پہلے لذیذ دیسی کھانا کھایا گیا اور پھر کنوینشن کے معاونین اور منتظمین میں انعامات تشکر تقسیم کیے گئے۔ کنوینشن کے منتظمین نے شام کے صدارتی خطبے کے لیےپاکستان سے خصوصی طور پہ معروف دانش ور پرویز ہود بھائی کو مدعو کیا تھا۔ ہود بھائی کی تقریر کا موضوع تھا “خیال کی طاقت۔” ان کی تقریر پرمغز تھی اور دل میں اترجانے والی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہود بھائی نے اپنی تقریر سے سامعین کو مسحور کر لیا۔ انہوں نے تقریر میں کہا کہ گو کہ خیال غیر مرئی ہوتے ہیں مگر ان کے اندر بلا کی طاقت ہوتی ہے۔ دشمن کی فوج کی یلغار کا سامنا کرنا ممکن ہے مگر ایک طاقتور خیال کو پسپا کرنا ممکن نہیں۔ اچھی جامعات ایسا سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں جہاں خیال فروغ پاتے ہیں اور جہاں ہر خیال کو سائنس کی کسوٹی پہ چھانا پھٹکا جاتا ہے۔ پرویز ہود بھائی نے افسوس ظاہر کیا کہ پاکستانی جامعات میں گھٹن کا ماحول ہے، وہاں کسی بھی نئے خیال کو مذہب کے نام پہ سر ابھارنے سے روکا جاتا ہے۔ ہود بھائی نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ حکومت اعلی تعلیم کے شعبے میں پیسہ پانی کی طرح بہا رہی ہے مگر اکثر صورتوں میں یہ اسراف کے سوا کچھ نہیں کہ رقم خرچ کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کی سوچ سمجھ نہیں اختیار کی گئی ہے۔ پرویز ہود بھائی کی تقریر کے اختتام پہ سامعین نے کھڑے ہو کر تالیوں سے ان کی گفتگو کی ستائش کی۔۔ اب باری تھی شازیہ مرزا کی جو مزاح نگاری کے اس جدید ترین انداز سے وابستہ ہیں جسے اسٹینڈ اپ کامیڈی کہا جاتا ہے۔ شازیہ مرزا انگلستان میں رہتی ہیں اور اس کنوینشن کے لیے خاص طور پہ بلائی گئیں تھیں۔ کیونکہ شازیہ مرزا کی مزاح نگاری کو ستمبر ۱۱ کے واقعے کے بعد مقبولیت ملی اس لیے سامعین کا خیال تھا کہ شازیہ مرزا کے مزاح کا رخ “تشدد کے خلاف جنگ” ہوگا مگر شازیہ مرزا نے ایسے خاکے پیش کیے جو جنسیات، کنوارا پن، وغیرہ سے متعلق تھے۔ سامعین میں موجود بہت سے لوگوں کی نظروں میں یہ مذاق چھچھورا تھا۔ محفل میں اس وقت ایک بدمزگی کی کیفیت پیدا ہو گئی جب منتظمین نے شازیہ مرزا کو ان اعتراضات سے بلند آواز مطلع کر دیا۔ اس سرزنش پہ شازیہ مرزا گڑبڑا گئیں۔ شاید وہ ایک ہی طرح کے مذاق کی تیاری سے آئی تھیں۔ پھر شازیہ مرزا جتنی دیر اسٹیج پہ رہیں اسی تذبذب کا شکار رہیں کہ وہ سامعین کو کس قسم کا مزاح سنائیں جسے سامعین گھٹیا نہ جانیں۔ شازیہ مرزا کے مزاحیہ خاکوں کے بعد اسٹیج موسیقاروں نے سنبھال لیا۔ آصف حق، ڈاکٹر سیما منہاج، شائق چشتی، ندیم ولی محمد، منیش جج، نوراللہ لودھی عرف شونو، اور دوسرے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور حاضرین سے داد وصول کی۔ محفل موسیقی کے اختتام پہ شازیہ مرزا ایک دفعہ پھر اسٹیج پہ آئیں اور مزید مزاحیہ خاکے پیش کیے۔ یوں کنوینشن کا اختتام رات ایک بجے کے بعد ہوا۔ کنوینشن کامیاب رہا اور یار دوستوں کو مل بیٹھنے کا ایک بہانہ مل گیا مگر سوال یہ ہے کہ اس کنوینشن سے جامعہ این ای ڈی کو کیا ملا۔ کیا یہ یوں ہی ہوتا رہے گا کہ لوگ آئیں گے، بیٹھیں گے، باتیں کریں گے اور پھر اپنی اپنی مصروف زندگیوں میں جت جائیں گے۔ بھول جائیں گے ان لوگوں کو، ان اداروں کو جن کے احسانات سےبوجھل ہونے کا احساس انہیں رات دن ہونا چاہیے۔ کنوینشن میں شریک بہت سے لوگوں کو منتظمین سے امید ہے کہ وہ این ای ڈی کے نام پہ ہونے والے اس پروگرام سے اپنی مادر علمی کی منفعت کا بھی کوئی سامان کریں گے۔  

 

 

شمالی امریکہ میں سالانہ منعقد ہونے والا این ای ڈی کنوینشن اس سال جنوبی کیلی فورنیا میں وقوع پذیر ہوگا۔

http://www.nedaasc.org/Convention2009.aspx

پچھلی دفعہ کی طرح اس بار بھی کوشش فائونڈیشن این ای ڈی کنوینشن کے انعقاد میں مالی تعاون کر رہی ہے۔

اپریل کی گیارہ تاریخ کو جنوبی کیلی فورنیا سے آنے والے ایک وفد نے شمالی کیلی فورنیا میں مقیم این ای ڈی کے چند سابق طلبا سے ملاقات کی۔ یہ تصویر اسی ملاقات کے موقع پہ لی گئی تھی۔ تصویر میں اگلی صف میں دائیں سے احمد علی، ڈاکٹر فرحت صدیقی، اور اصغر ابوبکر ، اور پچھلی صف میں کھڑے ہوئے، دائیں سے سہیل اکبر، ریاض حق، اوستور رضا، اور منصور خان نظر آرہے ہیں۔

پچھلے سال کے کنوینشن پہ شائع ہونے والی ایک اخباری رپورٹ درج ذیل ہے۔

وادی سلیکان میں این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۷ کا کامیاب انعقاد

کس قدر آسان ہوتا ہے کسی شخص پہ اعتماد کرنا اگر آپ کے اور اس شخص کے درمیان ایک رشتہ ہو۔ اور اگر یہ رشتہ کسی تعلیمی ادارے سے وابستگی کی صورت میں ہو تو ایسے شخص سے مل کر ایک بہت مختلف خوش گوار احساس ہوتا ہے۔ آپ نے جس علمی درس گاہ سے پڑھا ہے وہاں کے پرانے طلبہ۔ مختلف سالوں میں وہاں سے گزرنے والے لوگ۔ کہ جن دیواروں کا سہارا آپ نے کبھی لیا تھا یہ بھی ان کے سہارے کبھی بیٹھے تھے۔ کہ سخت دھوپ میں انہوں نے بھی انہیں درختوں کے نیچے پناہ لی تھی جن کے سائے سے آپ مستفید ہوئے ہیں۔ یہ لوگ آپ کے اپنے ہیں۔ آپ ان پہ بھرپور اعتماد کر سکتے ہیں۔ یہ آپ کے حقیقی بہنوں بھائیوں سے بس ایک درجہ ہی پرے ہیں کہ ان کے اور آپ کے درمیان بھی ایک شفیق ماں ہے، اپ کی مادر علمی۔ ستمبر ۸ کے روز منعقد ہونے والے این ای ڈی کنوینشن ۲۰۰۷ کے بیشتر شرکا باہمی اعتماد اور سرشاری کے ایسے ہی ایک رشتے میں بندھے تھے۔

پورے دن پہ محیط اس کنوینشن کی دن کی کاروائیاں ٹیک مارٹ سینٹا کلارا میں ہوئیں جب کہ بعد مغرب کاروائی کرائون پلازا ہوٹل سان ہوزے میں ہوئی۔ دن کے اجلاس میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد شریک ہوئے جب کہ شام کی محفل میں شرکا کی تعداد چارسو کے لگ بھگ تھی۔

شمالی امریکہ میں جامعہ این ای ڈی کے پرانے طلبہ کو سال میں ایک دفعہ کنوینشن کی صورت میں جمع کرنے کا سلسلہ دو سال پہلے شروع ہوا۔ اس قابل تحسین روایت کے بانی معین احمد صاحب ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ۲۰۰۵ کا کنوینشن ہیوسٹن میں منعقد ہوا جب کہ ۲۰۰۶ کا نیوجرسی میں۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ انٹرنیٹ پہ ان دونوں اجلاسوں کی تفصیلات موجود نہیں ہیں۔

وادی سلیکان میں منعقد ہونے والے تیسرے سالانہ این ای ڈی کنوینشن کی تیاریاں اس سال کے آغاز سے ہی شروع ہو گئیں تھیں۔ این ای ڈی المنائی ایسوسی ایشن آف سلیکان ویلی نام کی ایک تنظیم رجسٹر کی گئی اور ریاض حق، اصغر ابوبکر، صفوان شاہ، زوئیب رنگ والا، فرید درانی، صباحت اشرف، ادریس کوٹھاری، عمران قریشی، اور دوسرے افراد پہ مشتمل ایک اسٹئیرنگ کمیٹی ہر ہفتے ملنے لگی اور انتظامات کی تفصیلات طے کرنے لگی۔ ستمبر ۸ کے روز مہینوں کی یہ محنت رنگ لائی اور ایک کامیاب کنوینشن منعقد ہوا۔

کنوینشن کا آغاز ریاض حق صاحب کے تعارفی خطاب سے ہوا جس میں انہوں نے کنوینشن کے بارے میں مختصرا بیان کرنے کے ساتھ پروگرام کے معاونین اداروں اور افراد کا شکریہ ادا کیا۔

کنوینشن کے دن کے اجلاس کا صدارتی خطبہ تنویر عالم ملک نے دیا جو تنویر عالم محمدی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں جامعہ این ای ڈی کو ایک ایسی بوڑھی ماں سے تشبیہ جو مستقل اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دے رہی ہے اور یہ بچے پلٹ کر اپنی بوڑھی ماں کو پوچھتے ہی نہیں۔ سوال یہ تھا کہ جامعہ این ای ڈی کے ان بچوں کو اپنی ماں کے لیے کیا کرنا چاہیے۔ کیا ان سابقہ طلبہ کو این ای ڈی کو رقومات کا تحفہ دے کر احسان چکانے کی کوشش کرنی چاہیے؟ اس سوال کا جواب شام کے اجلاس میں ہود بھائی کی تقریر میں ملا، مگر ہم اس طرف بعد میں آئیں گے۔

کنوینشن کا پہلا مذاکرہ ایک پینل کی صورت میں تھا جس کا عنوان “این ای ڈی سے نیسڈیک” تھا۔ اس مذاکرہ کے شرکا ایسے نامور لوگ تھے جنہوں نے اپنا کاروبار شروع کیا اور اپنی محنت سے اس کاروبار کو عروج بخشا اور دنیا میں اپنا لوہا منوایا۔ پینل کے شرکا میں راغب حسین، سی ٹی او، کیویم نیٹ ورکس؛ راشاد علی، سی ای او، فائی ویو؛ عمار حنفی، جنرل پارٹنر، الائے وینچرز؛ ادریس کوٹھاری، بانی، ورٹیکل سسٹمز؛ ریحان جلیل، سی ای او، وائی کورس؛ اور امیر السلام، سی ای او، جرسی پری کاسٹ شامل تھے۔ شرکا نے سامعین کو کاروبار شروع کرنے سے متعلق اپنے تجربات پیش کیے۔

“این ای ڈی سے نیسڈیک” پینل کے اختتام پہ کھانے کا وقفہ ہوا جس کے بعد کنوینشن کی کاروائی پھر شروع ہوئی۔ “این ای ڈی: حکایت اور تاریخی سرمایہ” نامی پینل کی نظامت راشد علی بیگ نے کی۔ موصوف ۱۹۸۰ میں این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے صدر تھے۔ پینل میں شریف احمد، ایگزیکیوٹو بورڈ ممبر، این ای ڈی المنائی آف کینیڈا؛ ابوالسلام، سی ای او، اے آئی انجینئیرنگ؛ علی احمد مینائی، ایسوسی ایٹ پروفیسر، یونیورسٹی آف سنسناٹی؛ ندیم حسین، این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے پرانے صدر؛ اکبر یونس انصاری، این ای ڈی اسٹوڈینٹس یونین کے پرانے صدر؛ اور معین احمد، بانی، این ای ڈی المنائی ایسوسی ایشن آف امریکہ، شامل تھے۔ کیونکہ پینل میں شامل کئی شرکا ۸۰ کی دہائی میں جامعہ این ای ڈی کے طلبہ رہے تھے اس لیے گفتگو اسی دور کے سیاسی حالات، پاکستانی جامعات میں تشدد کے واقعات، طلبہ تنظیموں کے درمیان حربی جھڑپیں، وغیرہ کے بارے میں رہی۔ یہ وہ دور تھا جب پاکستان سے خفیہ طور پہ اسلحہ افغانستان میں روسیوں کے خلاف جنگ میں استعمال کے لیے بھیجا جا رہا تھا۔ اسلحے کی اس پائپ لائن میں کئی سوراخ تھے اور ان سوراخوں سے رسنے والے اسلحے کے نتیجے میں پاکستان میں کلاشنکوف کلچر فروغ پایا۔ اس طالب علم کو وہ دن یاد ہے جب جمعیت طلبہ اسلام کے پلیٹ فارم سے کئی سالوں کے بعد الطاف شکور اور مسعود محمود پی ایس ایف کے امیدواروں کو ہرا کر کامیاب ہوئے اور دوسری طرف سے غم و غصے کے اظہار کے لیے زبردست فائرنگ کی گئی۔

کنوینشن کی دن کی کاروائی کا آخری پینل “انجینئیرنگ سے پرے” کے موضوع پہ تھا۔ پینل میں ایسے لوگ شریک تھے جنہوں نے اپنی انجیئیرنگ تعلیم سے الگ ہٹ کر کوئی کام کیا تھا۔ شرکا میں صباحت اشرف، مصنف، بلاگر، سماجی کارکن؛ عارف منصوری، مالک، ہفت روزہ پاکستان لنک؛ عارف غفور، سیاسی اور سماجی کارکن؛ نبیہا محیدی، سابقہ صدر، انٹرنیشنل آرگینائزیشن آف پاکستانی وومن انجینئیرز؛ راشد یوسف، سی پی اے؛ اور ندیم مغل، آئی ٹی مشیر، شامل تھے۔ اس پینل کے اختتام کے ساتھ ہی کنوینشن کی دن کی کاروائی ختم ہوئی۔ چند گھنٹے کے وقفے کے بعد شرکا کرائون پلازا ہوٹل میں جمع ہوئے۔

کنوینشن ۲۰۰۷ نے این ای ڈی کے سابقہ طلبہ کو اپنے پرانے ساتھیوں کے ساتھ مل بیٹھنے کا ایک بہترین موقع فراہم کیا۔ کنوینشن میں شامل قدیم ترین طالب علم ڈاکٹر فرحت علی صدیقی تھے جنہوں نے ۱۹۶۸ میں این ای ڈی سے تعلیم مکمل کی تھی جب کہ جدید ترین فارغ التحصیل طالبہ قدسیہ مینائی تھیں جنہوں نے ۲۰۰۲ میں سند حاصل کی۔

کنوینشن میں ایک عجیب گہماگہمی تھی، توانائی تھی۔ لوگ سالوں کے بعد ایک دوسرے سے مل رہے تھے۔ اپنے پرانے ہم جماعتوں سے غیر موجود ساتھیوں کے متعلق استفسار کر رہے تھے۔

شام کے اجلاس میں سب سے پہلے لذیذ دیسی کھانا کھایا گیا اور پھر کنوینشن کے معاونین اور منتظمین میں انعامات تشکر تقسیم کیے گئے۔

کنوینشن کے منتظمین نے شام کے صدارتی خطبے کے لیےپاکستان سے خصوصی طور پہ معروف دانش ور پرویز ہود بھائی کو مدعو کیا تھا۔ ہود بھائی کی تقریر کا موضوع تھا “خیال کی طاقت۔” ان کی تقریر پرمغز تھی اور دل میں اترجانے والی تھی۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ہود بھائی نے اپنی تقریر سے سامعین کو مسحور کر لیا۔ انہوں نے تقریر میں کہا کہ گو کہ خیال غیر مرئی ہوتے ہیں مگر ان کے اندر بلا کی طاقت ہوتی ہے۔ دشمن کی فوج کی یلغار کا سامنا کرنا ممکن ہے مگر ایک طاقتور خیال کو پسپا کرنا ممکن نہیں۔ اچھی جامعات ایسا سازگار ماحول فراہم کرتی ہیں جہاں خیال فروغ پاتے ہیں اور جہاں ہر خیال کو سائنس کی کسوٹی پہ چھانا پھٹکا جاتا ہے۔ پرویز ہود بھائی نے افسوس ظاہر کیا کہ پاکستانی جامعات میں گھٹن کا ماحول ہے، وہاں کسی بھی نئے خیال کو مذہب کے نام پہ سر ابھارنے سے روکا جاتا ہے۔ ہود بھائی نے یہ بھی بتایا کہ موجودہ حکومت اعلی تعلیم کے شعبے میں پیسہ پانی کی طرح بہا رہی ہے مگر اکثر صورتوں میں یہ اسراف کے سوا کچھ نہیں کہ رقم خرچ کرنے کے سلسلے میں کسی قسم کی سوچ سمجھ نہیں اختیار کی گئی ہے۔

پرویز ہود بھائی کی تقریر کے اختتام پہ سامعین نے کھڑے ہو کر تالیوں سے ان کی گفتگو کی ستائش کی۔۔

اب باری تھی شازیہ مرزا کی جو مزاح نگاری کے اس جدید ترین انداز سے وابستہ ہیں جسے اسٹینڈ اپ کامیڈی کہا جاتا ہے۔ شازیہ مرزا انگلستان میں رہتی ہیں اور اس کنوینشن کے لیے خاص طور پہ بلائی گئیں تھیں۔

کیونکہ شازیہ مرزا کی مزاح نگاری کو ستمبر ۱۱ کے واقعے کے بعد مقبولیت ملی اس لیے سامعین کا خیال تھا کہ شازیہ مرزا کے مزاح کا رخ “تشدد کے خلاف جنگ” ہوگا مگر شازیہ مرزا نے ایسے خاکے پیش کیے جو جنسیات، کنوارا پن، وغیرہ سے متعلق تھے۔ سامعین میں موجود بہت سے لوگوں کی نظروں میں یہ مذاق چھچھورا تھا۔ محفل میں اس وقت ایک بدمزگی کی کیفیت پیدا ہو گئی جب منتظمین نے شازیہ مرزا کو ان اعتراضات سے بلند آواز مطلع کر دیا۔ اس سرزنش پہ شازیہ مرزا گڑبڑا گئیں۔ شاید وہ ایک ہی طرح کے مذاق کی تیاری سے آئی تھیں۔ پھر شازیہ مرزا جتنی دیر اسٹیج پہ رہیں اسی تذبذب کا شکار رہیں کہ وہ سامعین کو کس قسم کا مزاح سنائیں جسے سامعین گھٹیا نہ جانیں۔

شازیہ مرزا کے مزاحیہ خاکوں کے بعد اسٹیج موسیقاروں نے سنبھال لیا۔ آصف حق، ڈاکٹر سیما منہاج، شائق چشتی، ندیم ولی محمد، منیش جج، نوراللہ لودھی عرف شونو، اور دوسرے فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور حاضرین سے داد وصول کی۔

محفل موسیقی کے اختتام پہ شازیہ مرزا ایک دفعہ پھر اسٹیج پہ آئیں اور مزید مزاحیہ خاکے پیش کیے۔ یوں کنوینشن کا اختتام رات ایک بجے کے بعد ہوا۔

کنوینشن کامیاب رہا اور یار دوستوں کو مل بیٹھنے کا ایک بہانہ مل گیا مگر سوال یہ ہے کہ اس کنوینشن سے جامعہ این ای ڈی کو کیا ملا۔ کیا یہ یوں ہی ہوتا رہے گا کہ لوگ آئیں گے، بیٹھیں گے، باتیں کریں گے اور پھر اپنی اپنی مصروف زندگیوں میں جت جائیں گے۔ بھول جائیں گے ان لوگوں کو، ان اداروں کو جن کے احسانات سےبوجھل ہونے کا احساس انہیں رات دن ہونا چاہیے۔

کنوینشن میں شریک بہت سے لوگوں کو منتظمین سے امید ہے کہ وہ این ای ڈی کے نام پہ ہونے والے اس پروگرام سے اپنی مادر علمی کی منفعت کا بھی کوئی سامان کریں گے۔